Header Ads Widget

بچے کی پیدائش پر سر منڈنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟

عقیقہ میں بچے کا سر منڈانے کا حکم کیوں دیا گیا؟








دینِ اسلام کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہے

دین اسلام کی امتیازی خصوصیت ہے کہ اس کا کوئی بھی حکم فطرتِ انسانی کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی کوئی حکم کسی حکمت و مصلحت سے خالی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ فرائض تو فرائض، نوافل و مستحبات میں بھی بسااوقات بڑی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، حالاں کہ دین اسلام کے احکامات کو محض حکم الہیہ ہونے کی حیثیت سے امر تعبدی سمجھ کر اس پر عمل کرنا چاہیے،خواہ اس کی حکمت و لاجک ہماری عقل کے موافق ہو یا نہ ہو، ہماری فہم اسے قبول کرے یا نہ کرے؛ کیوں کہ ان احکام کے پس پردہ جو حکمتیں ہوتی ہیں بسااوقات ہم اس کے فہم و ادراک کی صلاحیت سے ناآشنا ہوتے ہیں۔

بچے کا سر حلق کرانے(منڈوانے) کے پیچھے حکمت

چناں چہ شریعت کا ایک استحبابی حکم یہ ہے کہ بچہ یا بچی کی ولادت کے بعد ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے اور سر کا حلق (منڈواکر) کرکے اس کے بالوں کی وزن کی مقدار چاندی راہ خدا میں صدقہ کرے۔
اس حکم کی بےشک بڑی فضیلت ہے، اور لوگ شوق سے اس کا اہتمام کرتے ہیں؛تاہم بہت سے اشخاص کو یہ جاننے کی چاہ ہوتی ہے کہ آخر اس چھوٹے سے عمل کے پیچھے کون سی مصلحت کار فرما ہے؟
آج کی یہ تحریر اسی موضوع کو محیط ہے؛لہذا مکمل ضرور پڑھیں!
سب سے پہلے تو یہ بات پیش نظر رہے کہ اللہ تعالی کے کسی حکم کے پیچھے کیا حقیقی وجہ ہے یہ بات صحیح طور پر اللہ تعالی کی ذات ہی کو معلوم ہے، ہم انسان فقط قیاس آرائی و غور و فکر کے ذریعے ان کی مصلحت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں؛لہذا ممکن ہے فی الحقیقت اس امر کی حکمت کچھ اور ہو جہاں تک انسانی عقل کی رسائی نہ ہو سکی ہو۔

کامل طور پر پاکی صفائی


تنظیف و تطہیر (پاکی صفائی) کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے؛حتی کہ نظافت کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے؛ چناں چہ بچے کے سر حلق کرانے میں ایک مصلحت یہ بھی کہ اس سے بچے کی مکمل تنظیف و تطہیر ہو جاتی ہے، ظاہر ہے شکم مادر سے جب بچہ باہر آتا ہے تو اس پر خون کی آلودگی اور گندگی کے اثرات ہوتے ہیں جو بچے کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتے ہیں؛ چناں چہ سر منڈواکر اس کے سر کی مکمل تنظیف کر دی جاتی ہے اور گندگی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔
نیز یہ کہ پیدائش کے وقت بچے کے سر پر جو بال ہوتے ہیں، وہ رحمِ مادر میں اگتے ہیں؛جس کی بنا پر وہ کافی باریک اور کمزور ہوتے ہیں؛چناں چہ سر کا حلق کرانے کا حکم دیا گیا؛تاکہ نئے سرے سے بال اگیں جو مضبوط ہوں۔

غریب و نادار افراد کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا

دین اسلام نے غریب و نادار افراد کا بڑا خیال رکھا ہے، جیسا کہ زکات و صدقات کی مشروعیت سے پتہ چلتا ہے؛چناں چہ بچے کا سر حلق کرانے میں بھی اس بات کو پیش نظر رکھا گیا اور حکم دیا گیا کہ بچے کا سر حلق کراکے اس کی وزن کی مقدار چاندی یا اس کی قیمت غریب و نادار افراد کو دیا جائے؛تاکہ اس خوشی اور مسرت کی گھڑی میں وہ بھی شریک ہو سکیں اور جس طرح والدین کے چہرے پر نعمت اولاد کی بنا پر مسکراہت ہے وہ ان کے چہرے پر بھی نمایاں ہو، جس طرح عیدین کی خوشی کے موقع پر صدقۂ فطر ادا کرکے ان چہرے پر بھی خوشی لائی جاتی ہے۔

جاہلیت کے رسوم کا خاتمہ

زمانۂ جاہلیت میں نومولود بچے کے عقیقہ کے جانور کا خون بچے کے سر پر مل دیا جاتا تھا، اور اس عمل کو وہ لوگ بچے کے حق میں خیر کا ذریعہ سمجھتے تھے،چناں چہ جب اسلام کی آمد ہوئی تو اس نے اس قبیح رسم کی خلاف ورزی کی اور جانور کا خون سر پر ملنے کی بجائے سر حلق کرنے اور سر پر زعفران ملنے کا حکم فرمایا جس میں جاہلیت کے رسم کی مخالفت بھی ہے اور بہت سارے طبی فوائد بھی ہیں۔



Bachche ki paidaish par sar mundane ka hukm kiyon diya gaya

تحریر مفید لگی ہو تو دیگر افراد تک شیئر ضرور کریں اور تبصرہ کرکے مفید مشوروں سے نوازیں!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے